وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ حملے سے متعلق کوئی پیشگی انٹیلی جنس نہیں تھی، وزیراعظم عمران خان نے انکوائری رپورٹ طلب کرلی
Published March 4:2022
پشاور: پشاور کے علاقے کوچہ رسالدار میں نماز جمعہ کے دوران ایک امام بارگاہ میں زور دار خودکش دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 56 افراد جاں بحق اور تقریباً 200 زخمی ہوگئے۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے، جہاں متاثرین کو لایا گیا ہے، نے ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کی اور کہا کہ انہیں 30 سے زائد لاشیں ملی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی بڑی تعداد مریضوں کے علاج میں مصروف ہے۔ ڈاکٹر عاصم نے کہا کہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں ادویات کی فراہمی اور طبی عملے کی دستیابی اور خون کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔
انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ یہ خودکش حملہ تھا اور خودکش جیکٹ میں کم از کم 150 بال بیرنگ استعمال کیے گئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حملہ آور پیدل جارہے تھے جب انہوں نے پولیس گارڈز اور امام بارگاہ پر حملہ کیا۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ (بی ڈی ایس) کی ابتدائی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد تقریباً پانچ سے چھ کلو گرام وزنی تھا اور یہ گھریلو ساختہ تھا۔ بال بیرنگ اور دیگر چھینٹے پیدا کرنے والے مواد کا استعمال نمازیوں میں زیادہ سے زیادہ ہلاکتوں کے لیے کیا گیا۔
سی سی پی او نے بتایا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد مسجد کے اندر دھماکا ہوا۔
دھماکے کے فوراً بعد پاک فوج کے اہلکاروں سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
وزیراعظم عمران خان نے پشاور کے علاقے قصہ خوانی بازار کے قریب واقع امام بارگاہ پر خودکش حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
وزیر اعظم نے حکام کو زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی اور متعلقہ حکام سے انکوائری رپورٹ طلب کی۔
