Published January 04:2024
حکومت کی ہدایت پر ٹی ایل پی سے بات ہوئی: آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کا فیض آباد کمیشن کو بتایا
سابق جاسوس چیف نے فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کے سامنے بیان ریکارڈ کرادیا۔
انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ فیض حمید نے فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل نے کمیشن کے فراہم کردہ سوالات کے جوابات دیے ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ فیض حمید نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ساتھ مذاکرات اس وقت کی شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی ہدایات پر کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کو طلب کرلیا
ادھر سابق وزیراعظم شہباز شریف نے 3 جنوری کو طلب کیے جانے پر کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا۔
ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے بیان ریکارڈ کرانے کے لیے کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے قبل سوالنامہ طلب کیا تھا۔ بعد میں ان کی درخواست پر انہیں دستاویز بھیج دی گئی اور وہ اپنے جوابات تیار کرنے کے بعد کمیشن کے سامنے پیش ہوں گے۔
شہباز شریف کو کمیشن نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے طلب کیا تھا۔
ٹی ایل پی کے 2017 کے فیض آباد دھرنے کی تحقیقات کرنے والا کمیشن سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ڈاکٹر اختر علی شاہ کی سربراہی میں کام کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: فیض آباد دھرنا کمیشن نے شہباز شریف کو طلب کرلیا
نگران وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنے پر انکوائری کمیشن قائم کر دیا تھا۔ خیبرپختونخوا کے سابق آئی جی پی شاہ کی سربراہی میں کمیشن میں ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ خوشحال خان اور اسلام آباد کے سابق آئی جی پی بھی شامل ہیں۔
ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، اس تین رکنی کمیشن کو فیض آباد دھرنے کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ مزید یہ کہ کمیشن کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ مجرم پائے جانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش کرے۔

